تیسری دنیا کے تہتر ممالک کے بلاک کی تشکیل میں کردار
پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور اُس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی۔ اُن کی خارجہ پالیسی کا مقصد ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کو ایک مضبوط آواز فراہم کرنا تھا تاکہ عالمی سطح پر ترقی پذیر ممالک کے مفادات کا مؤثر دفاع کیا جا سکے۔
اسی تناظر میں پاکستان نے ترقی پذیر ممالک کے اتحاد اور باہمی تعاون کی حمایت کی، جسے عموماً تیسری دنیا کے ممالک کے اتحاد کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ “تہتر ممالک کے بلاک” کی اصطلاح تاریخی طور پر درست نہیں ہے۔ بین الاقوامی سطح پر معروف اتحاد ترقی پذیر ممالک کا گروپ تھا، جسے ابتدا میں ستتر ممالک کا گروپ کہا جاتا تھا، جبکہ پاکستان نے اس کے مقاصد کی حمایت کی اور عالمی اقتصادی انصاف، خودمختاری اور ترقی پذیر ممالک کے حقوق کے لیے فعال کردار ادا کیا۔
اس پالیسی کے نتیجے میں:
ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ ملا۔
عالمی اقتصادی نظام میں انصاف اور مساوات کا مطالبہ مضبوط ہوا۔
پاکستان کا بین الاقوامی وقار اور سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا۔
جنوبی ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستان نے مؤثر آواز بلند کی۔
حوالہ جات:
گروپ آف ستتر
اقوام متحدہ
غیر وابستہ تحریک
