ٹریڈ یونینز کو آزادی دی اور مزدوروں کو یونین سازی کا حق دیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے ابتدائی دورِ حکومت میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کو اہم ترجیح دی۔ حکومت نے ٹریڈ یونینز پر عائد کئی پابندیوں میں نرمی کی، جس کے نتیجے میں مزدوروں کو اپنی نمائندہ تنظیمیں بنانے، اجتماعی طور پر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور آجروں سے مذاکرات کرنے کے زیادہ مواقع حاصل ہوئے۔ اس پالیسی کا مقصد محنت کش طبقے کو قانونی تحفظ دینا، ان کے روزگار کے حالات بہتر بنانا اور صنعتی شعبے میں مزدوروں کی مؤثر نمائندگی کو فروغ دینا تھا۔

حوالہ:

پاکستان پیپلز پارٹی
قومی صنعتی تعلقات کمیشن (صنعتی تعلقات اور ٹریڈ یونین معاملات)
صنعتی تعلقات سے متعلق قوانین، خصوصاً صنعتی تعلقات آرڈیننس ۱۹۶۹ء اور بعد ازاں صنعتی تعلقات ایکٹ ۱۹۷۲ء، جن کے تحت مزدوروں کے تنظیم سازی کے حقوق کو مزید تقویت دی گئی۔