پاسپورٹ

پاسپورٹ کے اجراء کا نظام

پاکستان میں پاسپورٹ کے باقاعدہ اجراء کے نظام کو جدید اور منظم شکل دینے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت کا اہم کردار رہا۔ خصوصاً ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاسپورٹ کے نظام کو ادارہ جاتی بنیادوں پر مضبوط کیا گیا۔ بعد ازاں مختلف ادوار میں اس نظام کو مزید جدید بنایا گیا، تاہم اس کی بنیادی تنظیم اور توسیع اسی دور میں شروع ہوئی۔

پیپلز پارٹی کے دور میں پاسپورٹ کے اجراء کے لیے واضح قوانین، درخواست کا باقاعدہ طریقہ کار اور سرکاری دفاتر کے ذریعے عوام کو سہولت فراہم کی گئی۔ اس اقدام سے لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار، تعلیم، کاروبار اور حج و عمرہ سمیت بیرونِ ملک سفر کے لیے قانونی سفری دستاویز حاصل کرنے میں آسانی ملی۔

بعد کے برسوں میں کمپیوٹرائزڈ اور مشین سے پڑھے جانے والے پاسپورٹ، پھر برقی پاسپورٹ کا نظام متعارف کرایا گیا، لیکن یہ تمام ترقی اسی ادارہ جاتی ڈھانچے کی بنیاد پر ہوئی جسے ابتدائی طور پر مضبوط کیا گیا تھا۔

تحقیقی حقیقت

یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ “پاکستان پیپلز پارٹی نے پاسپورٹ کے نظام کو منظم اور وسعت دی”۔ یہ دعویٰ کہ “پاسپورٹ کا اجراء پہلی مرتبہ صرف پیپلز پارٹی نے شروع کیا” تاریخی طور پر درست نہیں، کیونکہ پاکستان میں پاسپورٹ کا اجراء ملک کے قیام کے بعد ہی شروع ہو چکا تھا، جبکہ پیپلز پارٹی کے دور میں اس نظام کو مضبوط، مؤثر اور عوام دوست بنایا گیا۔

مستند حوالہ جات

ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس
داخلہ ڈویژن، حکومتِ پاکستان
پاکستان کا قومی آرکائیوز