علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا قیام
پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک تاریخی تعلیمی کارنامہ
پاکستان میں عام شہریوں، ملازمت پیشہ افراد، خواتین اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو اعلیٰ تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے لیے مئی ۱۹۷۴ء میں پیپلز اوپن یونیورسٹی قائم کی گئی۔ یہ ادارہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں پارلیمنٹ کے قانون کے تحت وجود میں آیا۔ بعد ازاں ۱۹۷۷ء میں اس کا نام تبدیل کرکے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔
قیام کے اہم مقاصد
عام لوگوں تک اعلیٰ تعلیم پہنچانا۔
ملازمت کرنے والے افراد کو تعلیم جاری رکھنے کا موقع دینا۔
خواتین، خصوصاً دیہی علاقوں کی طالبات، کو گھر بیٹھے تعلیم کی سہولت فراہم کرنا۔
کم خرچ اور معیاری تعلیم کو فروغ دینا۔
ملک میں شرحِ خواندگی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو بہتر بنانا۔
نمایاں خصوصیات
پاکستان کی پہلی فاصلاتی جامعہ۔ ایشیا اور افریقہ کی پہلی فاصلاتی جامعات میں شامل۔ ملک بھر میں لاکھوں طلبہ کو تعلیم فراہم کرنے والا ادارہ۔
ابتدائی جماعتوں سے لے کر ڈاکٹری کی سطح تک مختلف تعلیمی پروگرام۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا کردار
پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے تعلیم کو ہر شہری کی دسترس میں لانے کے وژن کے تحت اس جامعہ کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے نے غریب، دیہی، ملازمت پیشہ اور گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف افراد کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھول دیے، جس سے لاکھوں پاکستانی مستفید ہوئے۔
مستند حوالہ
قیام: مئی ۱۹۷۴ء
ابتدائی نام: پیپلز اوپن یونیورسٹی
Allama Iqbal Open University موجودہ نام: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی (۱۹۷۷ء سے)
قیام: پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں
